السبت، 12 فبراير 2011

کلوننگ۔ تعارف وتجزیہ
ڈاکٹر نثار اَحمد
عمل تخلق (Reproduction) کے دو طریقے ہںہ؛ ایک فطری اور دوسرا سائنسی (ٹسٹا ٹونب بے بی؍ سروگٹی مدر اور کلوننگ):فطری طریقہ تخلقد مںق نرو مادّہ کے نطفوں کے ملاپ کے بعد تخلقا کا عمل شروع ہوجاتا ہے جبکہ سائنسی طریقہ تخلقچ مںو نرومادہ کے نطفوں کو رحم سے باہر مصنوعی طریقے سے ملا کر بعد مںک رحم مںت ڈال دیا جاتاہے زیر نظر مقالہ مںل غری فطری طریق تخلقی مںہ سے صرف کلوننگ (Cloning) کی وضاحت کی جائے گی لکنا اس کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے فطری طریقہ تخلقی کی وضاحت کر دی جائے۔
فطری طریۂس تخلقی
اس کائنات مں اللہ تعالیٰ نے ہر چز کو کسی نہ کسی شکل مںر جوڑا پد ا کاس ہوا ہے اور ییہ جوڑے کسی نوع کی نسل کو برقرار رکھنے مںا بہت اہم کردار ادا کرتے ہںہ۔ یہ نرومادّہ کی تخصصی بعض انواع مںئ توبالکل واضح ہوتی ہںے جبکہ بعض انواع کے ایک ہی جسم مںع نرومادہ دونوں خصوصارت ہوتی ہںن جسار کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : (وَمِنْ کُلِّ شَيْئٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ) ''اور ہم نے ہر چزد کا جوڑا پدیا کاٰ ہے تاکہ تم غور کرو۔'' (سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ يَعْلَمُوْنَ)''پاک ہے وہ ذات جس نے سب چز وں کے جوڑے بنائے جو زمن( مںت اُگتے ہںَ اور خود ان کے نفسوں مںں بھی کہ جن کی ان کو خبر نہں ۔''
انسانی تخلقں کے لئے بھی مرد و عورت کے نطفوں یینو بضہل (Ovum) اور منوی خلئے (Sperm Cells) کا ہونا ضروری ہے۔ مرد و عورت کے نطفے جب باہم ملاپ کر لتےئ ہںن تو اسے قرآن کریم کی اصطلاح مںَ نطفۃ أمشاج اور سائنسی اصطلاح مںے Zygote (بارآور بضہ ) کہتے ہںہ۔ جدید طبی تحققاحت سے پتہ چلا ہے کہ مردانہ نطفہ (منی) مںي ۲۰ تا ۵۰ کروڑ سپرم خلئے ہوتے ہںر اور ان مںع سے تقریباً اکثر منوی خلئے ایک مکمل انسان بنانے کی صلاحتے رکھتے ہںر لکنن کروڑوں تولد ی خلاoت (Sperm Cells)مں سے صرف ایک خلہق عورت کے بیضے (Ovum) کو بارآور بنا کر تخلقح (Reproduction) کا عمل شروع کردیتا ہے اور باقی تمام خلئے مرجاتے ہں ۔
خلہے کی دریافت (Cell Discovery)
تولد ی خلئے کی بضہ کو بارآور بنانے کی معلومات خلئے (Cell) کی دریافت کے بعد کی ہںا۔ خلہم کی دریافت سے قبل انسانی تخلقی کے بارے مںج انسانی معلومات صرف مفروضات پر مبنی تھںr۔ خلئے کی دریافت نے علم الأجنّۃ(Embryology) مںن ایک بہت بڑا انقلاب برپا کا ، جب پہلی بار یہ پتہ چلا کہ خلہی (Cell) ایک حا تاnتی اِکائی ہے یینo تمام حویانات کی زندگی کی ابتدا ایک خلئے سے ہوتی ہے۔ خلئے کی دریافت سے یہ پتہ چلا کہ نباتی یا حوخانی جسم کا پودا خلوعں (Cells) سے بنا ہوا ہے۔ اگرچہ رابرٹ ہک (Robert Hooke) نے ۱۶۶۵ء مںد پہلی بار خلئے کا مشاہدہ کای تھا لکن متھیاس شلیڈن (Mathias Schleiden) نے ۱۸۳۸ء مں۔ نباتات کے خلئے کا پتہ چلایا۔ اس کے ایک سال بعد ۱۸۳۹ء مںا تھولڈر شوان(Theodor Schwann) نے حوiانات کے خلئے(Animal Cell) کا پتہ چلایا۔ ان دونوں کی دریافت سے علم الأجنۃ (Embryology) ترقی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہوئی اور اس سے علم کے دو نئے شعبوں علم الخلیات (Cytology)اور خوردبییں علم الاعضا (Histology) کی بناeد پڑی۔
خلہ (Cell)
خلہ تمام حوئانات اور نباتات کے اجسام کی بنا دی اکائی ہوتی ہے اور زندگی کے تمام افعال خلودں کے اندر سرانجام پاتے ہںl۔ خلئے اپنی جسامت اور شکل کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہںی۔ بعض اتنے چھوٹے کہ عام خوردبن سے بھی نظر نہں آتے اور بعض اتنے بڑے کہ عام انسانی آنکھ سے بآسانی دیکھے جاسکتے ہںی۔
کروموسوم (Chromosomes)
ہر خلئے کے اندر مرکزہ (Nucleus) مںد دھاگے کے مانند چھوٹے اجسام ہوتے ہں۔۔ یہ چھوٹے اجسام کروموسوم کہلاتے ہںن۔ ان کروموسوم کو صرف خلئے کی تقسم کے وقت دیکھا جاسکتا ہے اور جب خلہے حالت ِاستقرار (Inter Phase) مںں ہوتا ہے تو یہ کروموسوم مرکزہ (Nucleus) مںے بہت باریک دھاگوں کی شکل مںض پڑے رہتے ہںھ۔
جنو (Gene)
جنزم (Genes) کروموسوم مں تسبحد کے دانوں کے مثل قطار مںک پڑے ہوئے ننھی منھی مخلوق کا نام ہے جو خصوصاتت کو ایک نسل سے دوسری نسل مںc منتقل کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہںھ۔ ساخت کے اعتبار سے جنز ایک خاص قسم کے اُس 'مالکونل' کا حصہ ہوتے ہں جسے DNA کہا جاتا ہے۔ ایک خلئے مںں DNA کے اربوں یونٹ ہوتے ہںس۔ (۱۰) جنت جو DNA کا حصہ ہوتا ہے، وہ ایک پا م رساں آر این اے (Messenger RNA) کے ذریعے پروٹنئ کے ایک پولی پپٹائڈت(Polypeptid) کے سلسلے کے کا ہ ئی عمل (Synthesis) کو چلاتا ہے۔ یوں تو بہت سارے سائنسدانوں نے جنت کی تعریںٹ کی ہںل لکنس ان مںم ولمN بوائڈ (William Boyd) کی تعریف بہت جامع ہے، وہ لکھتے ہں :
"Genes are biochemical of biologicl information from one gereation to the next" ''جنر کاyd ئی طور پر حاfتاfت کی معلومات کو ایک نسل سے دوسری نسل مںت منتقل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔''
گویا جنزئ امتاoزی خصوصاتت کی وراثت کو ایک نسل سے دوسری نسل مںم منتقل کرنے کا ذریعہ ہوتے ہں ... 'وراثت' کی بحتdیe ِمجموعی یوں تعریف کی جاسکتی ہے : "Heredity is the process of the perpetuation of the specics" یینم ''وراثت کسی نوع کی بقا یینے آگے چلنے کے عمل کا نام ہے۔''
مجامعت کے بعد مردانہ نطفہ مںی سے چند سو منوی خلئے، زنانہ نطفہ (بضہوOvum) کی تلاش مںن رحم سے ہوتے ہوئے قناۃ المبضN (Fallopian Tube) کے اندر بیضے کو پالتےص ہں اور ان چند سو منوی خلوےں مںل سے صرف ایک منوی خلہn بضہل کے اندر داخل ہونے مںl کاماطب ہوجاتا ہے اور اس بیضے کو بار آور بنا دیتا ہے۔ اس بار آور بیضے (Fellopian Ovum) کو طبی اصطلاح مںل زایگوٹ (نطفۂ أمشاج) کا نام دیا گاں ہے۔
زایگوٹ کے تقسمأ در تقسما کا عمل (Initiation of Cleavage)
جب بار آور بضہٹ (زایگوٹ) قناۃ المبضت سے رحم کی طرف سفر شروع کردیتا ہے تو اس کی جفت تقسمت شروع ہوجاتی ہے۔ یینں پہلے ایک سے دو، پھر دو سے چار پھر چار سے آٹھ ... خلادت کی تقسم کے اس عمل کو مائی ٹوٹک ڈویژن (Mitotic Divesion)یا کلو یج (Cleavage) کہا جاتا ہے۔ جب اس زایگوٹ مںس خلوتں کی تعداد ۱۶ ہوجاتی ہے تو اب اس کو مرولہ (Morula) کہا جاتا ہے۔ عام طور پر مرولہ بارآوری کے تنب دن بعد بن جاتا ہے۔یہ بارآور بضہ مزید دو دن تک رحم کے اندرونی حصہ یوٹرائن کوaییک (Utrine Cavity) مںت پڑا رہتا ہے۔ بارآوری کے پانچویں یا چھٹے دن یہ بارآور بضہد جدارِ رحم (Endometrium) سے چپک جاتا ہے اور پھر رحم مادر مںآ نشوونما کے مزید مختلف مراحل سے گزر کر ایک خوبصورت بچے کی شکل مںن اس دناد مںد نمودار ہوجاتا ہے (فَتَبَارَکَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ)
رحم مادر مں انسانی جننم (Embryo) کے فطری طریقہ تخلق کے مراحل کو بالاختصار سمجھنے کے بعد قارئنع کے لئے اب سائنسی طریقہ تخلقَ یینّ کلوننگ (Cloning) کو سمجھنا نسبتاً آسان ہوجائے گا۔
کلوننگ (Cloning) کان ہے؟
کلون (Clone) کے لفظی معنی ہم شکل اور مماثل کے ہں ۔اور کلوننگ سے مراد تخلق کا وہ غر فطری طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک ہی طرح کے حوعانات یا ان کے اعضا جزوی یا مکمل طور پر کثرل تعداد مںی بنائے جاسکتے ہںک ۔ گویا کلوننگ جاCک تی ٹکنا لوجی کی وہ قسم ہے جس مںی سالمہ(Molecule) یا جانور یا پودوں کی بہت ساری نقول بنائی جاسکتی ہںے۔ کلون ہمشہا ایک دوسرے کی ہوبہو کاپاےں ہوتی ہں ۔ عام طور پر ایسے انسانوں؍ جانوروں یا پودوں کو کلون کرنا مقصود ہوتا ہے جو غرہ معمولی خصوصاات کے حامل ہوں۔
کلوننگ ایک سائنسی اصطلاح ہے جو گذشتہ پچاس سال سے سائنسدانوں کے ہاں استعمال ہوتی رہی ہے۔ لکن اس اصطلاح کو عوامی سطح پر اس وقت زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی جب ۲۳؍ فروری ۱۹۹۷ء کو روزنامہ 'آبزرور' مںا شہ سرخی کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی کہ سکاٹ لنڈس کے 'روزلن انسٹویے ٹ' کے سائنسدانوں نے ایک عام جسمانی خلئے (Somatic Cell) کی کلوننگ کرنے مںھ کاماخبی حاصل کرلی ہے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھلو گئی اور کلون اور کلوننگ کا لفظ سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے زبانوں پر بھی استعمال ہونے لگا۔
کلوننگ کا تارییگ پس منظر
1 ۱۹۵۰ئ: اس سال پہلی باربلا کے نطفہ کو 79c پر منجمد کرکے دوسری گائے مںہ منتقل کاا گات۔
2 ۱۹۵۲ئ: رابرٹ برگز(Robert Briggs) اور تھامس کنگ (Thomas King) نے منڈلک کے لاروے کے خلوںں سے پہلا حوپانی کلون بنانے کا اعزاز حاصل کاg۔
3 ۱۹۷۸ئ: پہلی ٹسٹع ٹوکب بے بی لوئسی(Louise)پدوا ہوئی۔
4 ۱۹۸۳ئ: متبادل ماں (Surrogate) کے رحم مںھ پہلی بار انسانی جننم (Embryo) کو کاما بی سے منتقل کاا گاو۔
5 ۱۹۸۵ئ: ریلف برنسٹر (Ralph Brinster) لباےرٹری مںر پہلا ٹرانس جنگ 'سور' پدگا کاا گا جو انسانی نشوونما کے ہارمون بناتا تھا۔
6 ۱۹۹۳ء :جارج ٹاؤن یونوrرسٹی کی ایک ٹمر انسانی جننس کا کلون تا'ر کرنے مں کاماگب ہوئی
7 ۱۹۹۳ء : ہلا (Hall) اور سٹل منا (Still Man) نے پہلی دفعہ مصنوعی طریقے پر نمو کے مراحل طے کرنے والے جنن (Embryo) کو دو حصوں مں تقسمو کردیا اور ان سے جڑواں بچے پد(ا کئے۔
8 ۱۹۹۶ئ: ایک ۶۰ سالہ عورت نے اپنے رحم مںج اپنی بیسا کے جننن (Embryo)کو رکھ کر اس کو جنم دیا۔
9 ۱۹۹۶ئ: روزلن انسٹوبی ٹ سکاٹ لنڈے مں بھڑ کے جننب کے خلو ں مںج سے مرکزہ نکال کر دوسری مادہ بھڑی کے بضو ں مںو منتقل کا۱ گا:۔اس عمل کے نتجےو مںا دو بھڑںیں بنام مگنن (Megan) اور مورگن(Morgan) پداا ہوئںڑ۔
10 ۱۹۹۷ئ: سکاٹ لنڈم کے اس انسٹوٹ ٹ کے سائنسدانوں نے بھڑم کے پستانوں کے خلوسں مںا سے مرکزہ نکال کر اسی سے اس کی ہم شکل بھڑد پدما کی۔ جس کا نام 'ڈولی' (Dolly) رکھا گاک۔
(11) ۱۹۹۷ء : امریکہ کی ایک تحقیسد ٹمس نے ڈان وولف (Don Wolf) کی سربراہی مں بندروں کے جننن کے خلو ں مں سے مرکزہ نکال کر بندریا کے بضو:ں مں منتقل کاڈ اور اس کے نتجےی مں دو ہم شکل (Clone) بندر پدنا ہوئے۔
کلوننگ کے مختلف طریقے
آج کل سائنسدان کلوننگ کلئےڑ تنپ مختلف طریقے استعمال کرتے ہںے جو درج ذیل ہں :
1 بالغ ڈی این اے کلوننگ (Adult DNA Cloning)
2 جننغ کلوننگ(Embryo Cloning)
3 معالجاتی کلوننگ(Theraputic Cloning)
1 بالغ ڈی این اے کلوننگ (Adult DNA Cloning)
بالغ ڈی این اے کلوننگ سے مراد وہ عمل ہے جس مںl ایک بضہد یا جننڈ (Ovum/Embro) سے اس کا DNA الگ کردیا جاتا ہے اور ایک بالغ جانور؍انسان کے جسمانی خلہn (Somatic Cell) کا DNA اس کی جگہ لگا دیا جاتا ہے اور پھر اس بیضے؍ جننک کو جسمانی خلئے کے DNA کے ساتھ نمو کے مراحل سے گزارا جاتا ہے ۔ ڈولی (Dolly) نامی بھڑ کی کلوننگ کے لئے ییج طریقہ اختاسر کاک گاا تھا۔
اگرچہ عمل تخلق (Reproduction)کے لئے نرومادّہ کے نطفے ہی استعمال ہوتے ہں لکن اللہ تعالیٰ نے ہر خلئے مںے بالقوہ یہ استعداد رکھی ہوئی کہ مناسب ماحول ملنے پر اس جسمانی خلئے (Somatic Cell) سے بھی ایک مکمل انسان وجود مںد آسکتا ہے۔ لکنع یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا ایک عجبi نظام ہے کہ صلاحتہ کے باوجود جسمانی خلئے (Somatic Cell) ایک خاص کانع وی پروگرام کے تحت ایک مخصوص کام سرانجام دیتے ہںا اور باقی خصوصاصت ان مںک عملاً خاموش رہتی ہںو۔ اگرچہ کچھ عرصہ قبل تک اکثر سائنسدانوں کا خا ل تھا کہ ایسے مخصوص خلاست (Differentiated) کو پھر واپس (Un-Differentiated) والی حالت پر نہںا لایا جاسکتا تاکہ یہ ایک بار آور بضہi کی طرح عمل تولد( شروع کرسکںe۔
ڈولی (Dolly) کی کلوننگ بذریعہ بالغDNA
ڈولی کی کلوننگ کا عمل روزلن انسٹوگتاٹ، سکاٹ لنڈی مںل تاضر کاو گات ہے ۔ڈولی کے لئے کلوننگ کے تجربات ڈاکٹر آئن ولمٹ(Dr. Ian Wilmut) اور ڈاکٹر کیتھ کمبلٹ (Dr. Keith Campbell) کی زیر قاادت ایک ٹمڈ نے انجام دیے۔اگرچہ بظاہر کلون تاnر کرنا آسان نظر آتا ہے مگر سائنسدانوں کی اس ٹمr کو بڑے صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا۔ اس کے لئے اس ٹمے نے ۲۷۷ دودھ (پستان) کے غدود کے خلئے بھڑ کے بضویں سے ملانے کی کوشش کی۔ ان ۲۷۷ دودھ کے غدود کے خلاnت مںو سے صرف ۲۹ خلو ں کی تقسمل کا عمل شروع ہوا۔۶ دن بعد یہ تمام بارآور بیضے مختلف بھڑدوں کے رحموں میںمنتقل کئے گئے۔ ان ۲۹ بارآور بضوکں مںو سے صرف ۱۳ سروگٹھ بھڑشیں حاملہ ہوگئںد۔ ۱۳ بھڑاوں مںت سے بھی صرف ایک بھڑم بچہ جننے کی قابل ہوئی، پدوا ہونے والی بھڑ کے بچے کا نام ڈولی رکھا گال۔ یہ نام ملک کی مشہور مغنہ ڈولی پارٹن کے نام سے منسوب کاب گاڑ۔ ڈولی کی پدکائش کا اعلان ۲۳؍ فروری ۱۹۹۷ء کو کای گار جب کہ اس کی عمر سات ماہ کو پہنچ چکی تھی۔ اعلان کے مطابق ڈولی ۴؍ جولائی ۱۹۹۶ء کودن کے چار بجے پد ا ہوئی اور پداائش کے وقت اس کا وزن ۶ئ۶ کلوگرام تھا۔
بعض نامور سائنسدانوں کو یہ خدشہ تھا کہ آیا ڈولی بچے پدما کرنے کے قابل ہوگی یا نہںی؟ کو نکہ بعض کلون شدہ منڈاک بچے پدجا کرنے کے قابل نہںا ہںی۔
ہرخلئے کی زندگی کا ایک خاص دائرہ ہوتا ہے اور اس دائرے کی تکملہ کے بعد وہ خلہہ خودبخود مرجاتا ہے۔ چونکہ ڈولی ایک چھ سالہ خلئے کی بالغ ڈی این اے سے پدہا کی گئی اور اس خلئے کو واپس زیروپوزیشن پر نہںک لایا گای تھا۔ اس لئے یہ خطرہ ہے کہ ڈولی کی عمر اپنی طبعی عمر سے چھ سال کم ہوگی کوانکہ جس خلئے سے ڈولی کی تخلق ہوئی ہے، وہ چھ سال کی عمر پہلے ہی مکمل کرچکا تھا ہے لکنس ان خطرات کا تسلی بخش جواب تو آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔
کلوننگ کے مزید تجربات : ڈولی کی پدےائش کے بعد بعض سائنسدانوں کو کلون بنانے کا خبط ہوگاہ اور وہ اپنی تمام تر صلاحں گا کلون بنانے پر صرف کرنے لگے۔
۲۲ جولائی ۱۹۹۸ء کو ہوائی یونوسرسٹی کے ڈاکٹر یناگی مچی(Dr. Yanagi Machi) نے چوہوں کے ۲۲ کلون بنانے کی کاما۔بی کا اعلان کا ۔
۹ دسمبر ۱۹۹۸ء کو جاپان کے سائنس مگزےین مںو یہ خبر چھپی کہ (Kinki) یونوMرسٹی، نارہ (جاپان) مں ایک گائے کی بالغ ڈی این اے سے آٹھ کلون گائے پد۹ا کئے گئے، جن مںن سے چار تو پد ا ہوتے ہی مرگئے جبکہ باقی چار زندہ رہے۔
۲۰۰۰ء مںو دودھ دینے والے حوسانات کی آٹھ اقسام کاکلون کائ جاچکا ہے جن کی تعداد ۲ سے ۵ ہزارکے درما ن ہے۔
2 جننں کلوننگ (Embryo Cloning)
جنن۰ کلوننگ (Embryo Cloning)کو مصنوعی طریقے پر جڑواں بچے پد ا کرنے کا عمل بھی کہا جاتا ہے۔ جننم (Embryo) کی کلوننگ ایک معاoری ٹسٹع ٹوnب بے بی کے طریقہ کار سے شروع ہوتی ہے۔ کلوننگ اس طریقہ کار سے بہت مشابہ ہوتا ہے جس سے قدرتی طور پر جڑواں بچے پدiا ہوتے ہںٹ جن مںں منڈےک اور چوہے شامل ہںر۔ تاہم انسانی جننٹ (Human Embryo) پر یہ تجربات بہت محدود ہںا۔ تحققاوت سے پتہ چلتا ہے کہ قدرتی طور پر کئی مرحلے32 Cell Stage)) تک کامانبی سے پہنچائے گئے ہںر لکند اس کے بعد ان خلاiت کی مزید تقسمم نامعلوم وجوہات کی بنا پررک گئی۔
رابرٹ سٹل منن اور اس کی ٹمس کے دوسرے سائنسدانوں نے اکتوبر ۱۹۹۴ء مںو بارآور بضہب کو کاماtبی کی ساتھ الگ (Split) کرنے مںب کاماوب ہونے کا اعلان کاi۔ اخلاقی اقدار کی پامالی سے بچنے کے لئے محققنب نے صرف ان بار آور بضوھں کو اپنے تجربات کے لئے منتخب کاں جن کے مکمل جننع بننے اور پد ا ہونے کے امکانات بالکل نہ تھے۔
3 معالجاتی کلوننگ (Theraputic Cloning)
کلوننگ کی تسر ی قسم معالجاتی کلوننگ کہلاتی ہے، معالجاتی کلوننگ کے ابتدائی مراحل وہی ہںر جو بالغ ڈی این اے (Adult DNA) کے ہںس اور جس کے نتجےق مںc بننے والے جننت (Embryo) کو ۱۴ دنوں تک کے لئے بڑھنے دیا جاتا ہے۔ 'معالجاتی کلوننگ' کسی بما ر شخص کے جسم سے بالغ ڈی این اے لے کر مصنوعی طریقے پر اس سے مکمل عضو یا اعضا (دل، لبلبہ، جگر وغررہ) بنا کر اس بما ر شخص کے جسم مں اس کی پوبندکاری کرنے کے عمل کا نام ہے۔معالجاتی کلوننگ اگرچہ ابھی تک تصوراتی ہے تاہم سائنسدان اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے برابر تحققو میںلگے ہوئے ہں اور کسی حد تک اس کی ابتدائی مشکلات پر قابو بھی پالاس گا) ہے۔ معالجاتی کلوننگ مںے وہ جننق استعمال ہوگا جس کے لئے جسمانی خلہر Somatic Cell)) کا مرکزہ استعمال کاا گا اور پھر اسی جننن کے ابتدائی خلانت (Stem Cells) حاصل کئے گئے ہوں۔اگرچہ ابھی تک کسی لبادرٹری یا کلنک مںہ معالجاتی کلوننگ کے ذریعے کوئی انسانی عضو نہںہ بنایا جاسکا لکنل مستقبل مں۔ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ابتدائی تجربات اور ان تجربات کے بناعدی خدوخال لئے گئے ہںئ جو درج ذیل ہںع:
ممکنہ طریقہ کار
1 کسی بماور شخص کے بدن کے خلہہ(Somatic Cell) سے DNA حاصل کرنا۔
2 یہ حاصل شدہ ڈی این اے جننہ (Embryo) کی اپیس DNA کی جگہ ڈالا جانا اور جننا کا اپنا DNA الگ کرنا۔
3 دو ہفتے تک اس جننم کو ایک مخصوص ماحولمیں رکھنا تاکہ اس کی نشوونما شروع ہوسکے۔
4 اب جننے کے ابتدائی خلئے (Stem Cells) نکال دیئے جاتے ہںا ۔یہ مرحلہ نہایت خطرناک ہوتا ہے اور اس مںر اکثر جننا مرجاتے ہںب۔
5 اس کے بعد حاصل شدہ خلائت (Stem Cells) سے مطلوبہ عضو بنانے کے لئے ان کوایک خاص مڈ۔یم مںی رکھا جاتا ہے۔ ۹۰ حمل مں سے ایک حمل کا بارآور بضہے (Two Cell Stage) پر جدا ہوکر مشابہ جڑواں بچے (Mono Zygotic) پد ا کرتے ہںل۔ اس قسم کے بچوں کا جنسارتی مادہ ایک دوسرے کے مشابہ ہوتا ہے۔
خود اللہ تعالیٰ فطری طریقے پر کلون بنانے والی سب سے بڑی ذات ہے، جس سے گاہے بگاہے قدرتی طور پر مشابہ جڑواں بچے پدںا ہوتے ہںہ جبکہ جنن کلوننگ (Embryo Cloning) مںو ییب طریقہ انسانی تدبر کے ساتھ ارادتاً لباںرٹری مںج دہرایا جاتا ہے۔
انسانی جننب کی کلوننگ کا طریقہ کار(Procedure for human embryo)
1 ایک نسوانی بضہگ اور مردانہ نطفہ (سپرم سلب) کو ششےا کی ایک مخصوص پلٹ (Petri Desh)مںل مصنوعی طریقہ پر ملا دیا جاتا ہے۔
2 دونوں کے ملنے کے بعد بارآور بضہگ (Fertilized Ovum) کو تقسمس کے آٹھ سلزش (Blastule Stage) کے مرحلے تک بڑھنے دیا جاتا ہے۔ خلاگت کی یہ تقسمر جفت ہوتی ہے یینز دو سے چار پھر چار سے آٹھ، پھر آٹھ سے سولہ ...
l بلاسٹولہ مرحلے پر اس ششے کی پلٹt مںس ایسا کامشائی مواد ڈالا جاتا ہے جس سے زونا پلوھسڈبا(Zona Peloseda) کی جھلی خلہی سے الگ کرنے کے ساتھ خلواں کو غذائتک بھی فراہم کرتی ہے۔
3 زونا پلوےسڈیا الگ ہونے کے بعد تمام خلاzت الگ الگ ہوجاتے ہںس۔ پھر ہر خلہ کو الگ (Petri Desh) مںس ڈال دیا جاتا ہے۔
4 ہرخلہپ (بارآور بضہ ) الگ (Petri Desh) مں ڈالنے کے بعدان پر ایک بار پھرزونا پلوhسڈیا کی جھلی مصنوعی طریقے سے چڑھائی جاتی ہے اور ایک بار پھر ان کو تقسمع در تقسمر کے عمل سے گزارنے کے لئے کاےآٹئی مواد ڈالا جاتا ہے۔
5 سٹل منل (Still Man) اور اس کی ٹم کے تجربات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جننر کلوننگ کے بہترین نتائج اس وقت حاصل ہوسکتے ہںٹ جب بارآور بضہے (Zygote)کو دو خلامت کے مرحلے یینئ (Stage Two Cell) پر الگ کرکے کلوننگ کا عمل شروع کاس جائے۔
6 بارآور بضہج (Fertilized Ovum) کے یہ بہت سارے جوڑوں کو تقسمع کے عمل کے ذریعہ ۳۲ خلاکت مں یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ مناسب نشوونما پاسکے۔ (Stem Cells) خلالت کی ایک نادر قسم ہے جو کہ (Theoretically) انسانی اعضا اور بافت (Tissues) کی شکل اختاSر کرسکتے ہںک۔
نتجتاًs بننے والا مطلوبہ عضو یا بافت مریض کے جسم مںا پویندکاری عمل کے ذریعے لگایا جاتا ہے۔
رکاوٹںs
1 Stem Cell کا جننل سے کاماتبی کے ساتھ حصول اور پھر لباارٹری میںاس کی نشوونما۔(یہ مرحلہ لبافرٹری مں کاما بی کے ساتھ پایہ تکملن کوپہنچ چکا ہے)
2 Stem Cellکو مطلوبہ بافت کی شکل اختایر کرنے کے لئے مائل کرنا۔ اب تک انسانی بدن کے تقریباً ۲۲۰ قسم کے خلاشت مںل سے اکثر کو مائل کان جاچکا ہے۔
3 بافت یا اعضا کے بننے کے بعد مریض کا جسم اس نئے عضو یا بافت کو قبول کرے۔کودنکہ مریض کا جسم اگر اس نئے عضو کو قبول کرنے سے انکار کردے تو پھر مریض کے لئے خطرے کا باعث ہوگا۔
ممکنہ فوائد
اگر معالجاتی کلوننگ کا طریقہ کار کاماعبی سے ہمکنار ہوتا ہے تو جان بلب مریضوں کے لئے ہو بہو جا جستی لحاظ سے مشابہ اعضا وافر مقدار مںر مہاو ہوسکںن گے اور یوں بے شمار جان بلب مریضوں کو موت کے منہ مں جانے سے بچایا جاسکے گا۔
1 ذیابطسا کے مریضوں کے لئے انسولنر پدرا کرنے والے خلاہت کی کلوننگ
2 فالج اور رعشہ کے مریضوں کے لئے اعصابی خلئے (Nerve Cells) کی کلوننگ
3 بماجر جگر کے مریضوں کے لئے جگر کے خلورں کی کلوننگ
کار اب تک کسی انسان کو کلون کالجاچکا ہے؟
جارج واشنگٹن مڈریکل سنٹر کے رابرٹ جے سٹل منس (R.J.Still man) اور اس کی ٹمو نے انسانی کلون بنانے مںو کاماےبی کا دعویٰ کار ہے۔ اکتوبر ۱۹۹۴ء مں انہوں نے انسانی بیضے کو توڑنے (Split) مںن کاماگبی حاصل کرلی، تاہم انہوں نے اپنے تجربات کے لئے نقص والے انسانی جننس کا انتخاب کاا تھا۔ جس پر انہوں نے اپنے ابتدائی تجربات کئے، لکنس نقص کی بنا پر بارآوری کے چند دن بعد ان کو ضائع کردیا۔ اسی طرح کوریا کے (Kyeon Ghee) یونوiرسٹی کے سائنسدانوں نے ۱۴؍ دسمبر ۱۹۹۸ء کو انسانی کلوننگ مںد کاما بی کا اعلان کاا۔ انہوں نے ایک خاتون کا بغرت مرکزے والا بضہی (Ovum) لے کر اسی خاتون کے جسم کے ایک خلئے (Somatic Cell) کے ساتھ جوڑ لاا اور پھر اس بارآور بضہو کو تقسمe در تقسمر کے چوتھے مرحلے (4th Cell Stage) تک کاماSبی حاصل کرلی۔ لکنھ عوامی ردّعمل کی بنا پر اس انسانی جننٹ کو رحم مادر میںرکھنے سے اجتناب کاو اور اسے ضائع کردیا۔
گذشتہ سال(جنوری ۲۰۰۳ئ)فرانس نے کلوننگ کے ذریعے پہلی بچی پدنا کرنے کا بھی دعویٰ کاک ہے، جس کی تحققا ت جاری ہں کہ آیا یہ صرف دعویٰ ہے یا حققت ؟
انسانی کلوننگ ... مضمرات
ڈولی کی پددائش نے جہاں سائنس کی دناو مںم ہلچل مچا دی، تاکہ سائنسدان اپنی مرضی کے مطابق غرس معمولی خصوصاعت رکھنے والے جانور پدیا کرسکں ، وہاں یہ خطرہ بھی پداا ہوا کہ کہں سائنسدانوں کی تحققا کا رُخ انسانوں کی طرف نہمڑ جائے کومنکہ انسانوں کی کلوننگ کا تقریباً وہی طریقہ کار ہے جو ڈولی کے لئے استعمال کا گا ہے۔ اس ممکنہ انسانی کلوننگ کے مضمرات کو سمجھنے کے لئے اگر اس کے فوائد و نقصانات پر ایک نظر ڈالی جائے تو انسانی کلوننگ کے جواز اور عدم جواز کی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔
فوائد
1 کلوننگ کے ذریعے مخصوص خصوصاات کے حامل افراد کی ہوبہو کاپا ں بنائی جاسکتی ہںل اور ان خصوصانت کو لازوال بنایا جاسکتا ہے۔
2 والدین اپنے بچوں مں اعلیٰ کارکردگی والے انسانوں کی خصوصا ت منتقل کرکے اپنی نسل کو خوب سے خوب تر بنا سکتے ہںس۔
3 کلوننگ کے عمل سے اعضا کی منیقلٰ کے لئے (Compatible Donars) کلون کئے جاسکتے ہںر۔
4 اولاد سے محروم والدین کلوننگ کے عمل کے ذریعے جسمانی خلہp (Somatic Cell) سے اپنی مرضی کے مطابق بچہ یا بچی حاصل کرسکتے ہںو۔
نقصانات
1 ڈولی کے کلوننگ کے دوران تقریباً ۷۰۰ بضونں پر تجربات کے بعد صرف ایک تجربہ کاماپب ہوا۔ گویا کاماجبی کی شرح نہایت ہی کم یینا ایک اورسات سو (۱:۷۰۰) ہے۔
2 کلوننگ ایک مہنگا ترین سائنسی عمل ہے اور کامانبی کے امکانات بہت کم ہںر۔ لہٰذا یہ وقت اور پسے کے ضایع کے علاوہ اور کچھ بھی نہںا۔
3 بالغ DNAکے طریقے مںن وہ خلہی اپنی زندگی کا کچھ حصہ گزار چکا ہوتا ہے، لہٰذا اس سے بننے والے کلون کی عمر یناھ اتنی کم ہوگی اور یوں انسان خود اپنی عمر کو گھٹانے والا بن جائے گا
4 اس عمل کے دوران DNA تباہ بھی ہوسکتا ہے جس سے متعددپدگیوہ مسائل جنم لںچ گے۔
5 کئی انسانی جنزہ (Human Embryos)کو ضائع کرنے کے بعد انسانی کلوننگ ممکن ہوسکے گی کا یہ دانشمندی ہوگی کہ ایک غر موجود کلئےی موجود کو ضائع کردیا جائے۔
6 فرض کریں ہم انسانی کلون مںا کاماyبی حاصل کر بھی لں جس مں ہماری مرضی کی خصوصاوت ہوں لکن کا اس کو وہ ماحول مسرل آسکے گا جس مںر مرکزہ والے انسان نے پرورش پائی۔
7 کلوننگ سے آبادی مں بے تحاشا اضافے کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے آبادی پر قابو پانے کے تمام کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائںن گے۔ بھوک و افلاس مںا اضافہ ہوگا اور کلون کی شکل مںی ہم زندہ روبوٹ بنانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہں کرسکںن گے۔
8 کلون انسان ہشہگے اپنے آپ کو نچلے درجے کا شہری سمجھے گا اور معاشرے مںل ہر فرد کی انگلی کلون کی طرف اُٹھے گی اور یوں وہ کلون انسان ہمشہو اپنے آپ کودوسروں کے لئے ایک تماشا ہی پائے گا۔ جس سے وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوگا۔
عوامی ردّ عمل:کلوننگ کے ذریعے ڈولی کی پدوائش نے پوری دناو مںہ اضطراب کی کتف پد ا کردی چنانچہ سابق امرییو صدر بل کلنٹن نے اس قسم کی ریسرچ کے لئے سرکاری فنڈز کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔
!ڈولی کی کلوننگ کرنے والی ٹما کے سربراہ آئن ولمٹ کا کہنا ہے : "It is absolutely criminal to try this in human" ''کلوننگ کے عمل کو انسانوں پر آزمانا یناڈ ایک جرم ہے۔''
دناٹ کے مختلف مذاہب کے اہل علم نے بھی کلوننگ کو انسانوں پر آزمانے کی مخالفت کی ہے۔
٭ ۲۹؍ اگست ۲۰۰۰ء کو پوپ نے وییو کن سٹی مںا اعضا کی منتقلی کے ایک بن الاقوامی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''کلوننگ کے معالجاتی پہلو کے باوجود اخلاقایت کی کسی بھی قانون مںی انسانوں پر کلوننگ کے تجربات کو قابل قبول عمل قرار نہںہ دیاجاسکتا اوراس قسم کی تحقق پرپابندی ہونی چاہئے ۔''
٭ عساسئی علما نے کلوننگ کے عمل کے دوران انسانی جنن (Human Embryo) کو ضائع کرنا قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔
٭ یہودی علماء نے بھی کلوننگ کو ایک بے مقصد کام مںی قوت کا ضاaع قرار دیا ہے۔
٭ چند مسلمان علما نے انفرادی طور پر کلوننگ کے بارے مںی اپنے خا لات کا اظہار کار ہے لکند فتویٰ کی حد تک،مسلمانوں کا اجتماعی پلٹٹ فارم نہ ہونے کی بنا پر کلوننگ کے جواز اور عدم جواز کے بارے مںئ ابھی تک اجتماعی رائے سامنے نہںر آئی۔ انٹرنٹ پرایک مضمون مںی اس بات پر افسوس کا اظہار کار گا ہے کہ مسلمانوں کے ہاں کسی چزک کے جواز اور عدم جواز کے بارے مںے ایک مشترکہ دارالافتا نہ ہونے کی بنا پر ایک ہی چزہ کے بارے مںہ مختلف قسم کے فتوے سامنے آجاتے ہںک۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام کے سرکردہ علما اور محققنی پر مشتمل 'دارالافتائ' قائم کاں جائے تاکہ اس جدید سائنسی ماحول کی کوکھ سے جنم لنےہ والے مسائل کے بارے مںد امت مسلمہ کی طرف سے تقریباً متفقہ موقف جاری کاج جاسکے۔
کلوننگ سے متعلقہ فقہی سوالات
۱۔ جننا (Embryo) کی تعریف کای ہے؟ کاا کلوننگ کے بعد اس کی تعریف از سرنو متعنم کرنے کی ضرورت نہںر ہوگی؟ علم الأجنۃکی رو سے (Implantation) کے بعد ۸ ویں مہنےک تک کا مرحلہ جنند (Embryo) کہلاتا ہے۔
۲۔ کان جننو صرف رحم مادر مںi ہوتا ہے؟ اگر مصنوی طریقے سے رحم سے باہر جننن بنایا جائے تو کا) اس کو بھی جننئ قرار دیا جاسکتا ہے؟
۳۔ اگر رحم سے باہر مصنوعی طریقے پر بننے والے جننج پر جننر کا اطلاق ہوگا تو اس کو ضائع کرنے کی صورت میںقتل جنن۔ کے لئے فقہ میںمتعین سزا اور دِیت کا اطلاق کسے اور کس پر ہوگا؟ بضہپ دینے والی عورت پر، جسمانی خلہس دینے والے مرد یا عورت پر، یا اس سائنسدان پر جو مصنوعی طریقے سے ان خلوسں کو ملا کر جننا بنانے کے بعد اسے ضائع کردیتا ہے یا تجربات مںت خود بخود سائنسدانوں کے ہاتھوں ضائع ہوجاتا ہے...؟
۴۔ کا رحم سے باہر جنن کے بعض تجربات کےئن اسے ضائع کرنا قتل کے زمرے مںک آتا ہے؟
۵۔ بالغ ڈی این اے کے طریقے مںں اگر عورت کے بیضے سے اسی عورت کے جسم کا خلہع ملا کر اسی عورت کے رحم میںرکھ دیا جائے گا تو ایسے بچے کا اس عورت کے شوہر سے کاے رشتہ ہوگا؟
۶۔ کا ایسا بچہ اپنی ماں کے شوہر کے مال مں حصہ دار ہوسکتا ہے؟
۷۔ ایسے بچے کا فطری طریقے سے پدوا ہونے والے اپنی ماں کے دوسرے بچوں سے کا رشتہ ہوگا؟ جبکہ وہ ان کے باپ سے نہں ؟
۸۔ اگر ایک عورت کے بیضے سے اسی عورت کے اپنے شوہر کے جسم کا خلہ ملا کر بچہ کلون کاج جائے تو کاج وہ بچہ صحح النسب ہوگا؟ جب کہ وہ اس شوہر کے نطفہ سے نہںک بنا؟
۹۔ ایسے بچے کا اس جوڑے کے فطری طریقے سے پد اہونے والے بچوں سے کام رشتہ ہوگا؟
۱۰۔ اگر ایک عورت اپنے بیضے سے کسی غر مرد کے جسم کا خلہ (Somatic Cell) ملا کر کلون بنائے تو کا یہ بچہ صحح النسب ہوگا؟
۱۱۔ غرر مرد کے جسمانی خلہس سے اپنے آپ کو حاملہ بنانے والی عورت پر حد لاگو ہوگی یا نہںر؟ اور اگر حد لاگو نہںگ ہوگی توکاح تعزیر اً اس کو کوئی سزا دی جاسکتی ہے؟
۱۲۔ کار تجربات کے لئے کسی عورت کے بضہے دان سے بیضے حاصل کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو ایسا کرنے والوں کے لئے کاح سزا ہونی چاہئے؟


رجسٹرڈ اراکنا


مجھے یاد رکھےک